مالی سال 2017 کے بجٹ میں لگائے گئے ٹیکسوں سے پراپرٹی سیکٹر پر جو زوال شروع ہوا تھا،، رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ابھی تک اس کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے،، پہلے ٹیکسوں میں اضافہ ہوا،، اس کے بعد کالے دھن کے خلاف کاروائیوں اور نیب کے مختلف ہاوسنگ سوسائیٹیوں پر چھاپوں نے صورتحال مزید خراب کر دی،، اسوقت سے اب تک زیادہ تر سرمایہ کار صرف مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ ہی لے رہے ہیں،، اور حقیقی خریدار قیمتیں مزید کم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں،،
ٹیکسوں کے نفاذ اور نیب کی کاروائیوں کے بعد بڑے شہروں میں زمینوں کی خریدوفروخت کا کام زیادہ بری طرح متاثر ہوا،، صرف لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ڈی ایچ اے میں خرید و فروخت میں 70 فیصد کمی دیکھی گئی،، پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس قوانین کے بعد عملی طور پر چھوٹے اور متوسط پراپرٹی ڈیلرز کا کام بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے،، بڑی بڑی سوسائٹیوں میں بھی خریدوفروخت میں 80 سے 90 فیصد تک کی کمی دیکھی گئی،، ،پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے تو سائڈ لائن ہو ہی گئے،، سنجیدہ خریدار بھی شش و پنج میں پڑ گئے،، کہ کونسی سوئٹی صیح ہے اور کونسی غلط،، جبکہ اس دوران زمینوں کی قیمت میں ہونے والی مسلسل کمی کے باعث بھی خریداروں نے انتظارکرو کی پالیسی پر بھی عمل شروع کر دیا،،
پراپرٹی کی قیمتیں 2016 کے بعد سے اب تک اوسطا 25 سے 30 فیصد تک کم ہو چکی ہیں،، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ خریداروں کی مارکیٹ پے،، فروخت کرنے والے تو بہت ہیں لیکن خریدار کم ہیں جس کی وجہ سے بھی قیمتوں میں کمی ہوئی،،
نئے مالی سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل امید کی جا رہی تھی کی ن لیگ کی حکومت جاتے جاتے پراپرٹی سیکٹر کی بحالی کے سلسلے میں ٹیکسوں کی نظام میں تبدیلی اور بہتری کے لیے اقدامات کرے گی،، جس سے نئے مالی سال کے آغاز یکم جولائی سے صورتحال میں بہتری شروع ہو جائے گی،،، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا،، اور پراپرٹی شعبے کو کوئی خاص ریلیف نہیں دیا گیا،،، الٹا نان فائلر پر 50 لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائداد خریدنے پر پابندی لگ گئی،، جایداد خریدنے والے کو ذرائع آمدنی بھی بتانا ہوں گے،، اس صورتحال میں پراپرٹی سیکٹر میں فوری طور پر بہتری کے زیادہ امکانات نظر نہیں آ رہے،، یکم جولائی کے بعد 50 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کا کاروبار تو پہلے سے بھی کم ہو رہا ہے،، تاہم کم قیمت اور نسبتا سستے ہاوسنگ منصوبوں میں تھوڑا بہت کام شروع ہوا ہے،، اور تین یا پانچ مرلے کے پلاٹوں کی خرید وفروخت میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے،،، جس سے ان کی قیمتوں میں اگر زیادہ اضافہ نہیں ہوا تو بھی کم سے کم قیمتوں میں استحکام ضرور آ گیا ہے،،
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بہتر ہونے کا امکان ہے،، زمینوں کی کم قیمتیں کافی سرمایہ کاروں کو واپس مارکیٹ میں لا سکتی ہیں،، خریداری میں اضافے سے سیکٹر میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے،، پاکستان میں پراپرٹی کا کام کرنے والے زیادہ تر انوسیٹر پاکستان میں کام نہ ہونے کے باعث زیادہ سے زیادہ دوبئی کی مارکیٹ کا رخ کرتے تھے،، دوبئی میں اگرچہ اسوقت پراپرٹی کی قیمتیں پہلے سے کم ہی ہیں،، لیکن پاکستان میں ایک ٹیکس فائلر کو نئے نظام کے تحت خرید و فروخت کے عمل میں ٹیکس کے ضمن میں جو زیادہ سے زیادہ رقم پراپرٹی کی خرید و فروخت کے وقت ٹیکس کی مد میں ادا کرنی ہوگی ‘ وہ ابھی بھی دبئی میں پراپرٹی کی خرید و فروخت کے وقت ادا کئے جانے والے ٹیکس سے 4 فیصد کم ہے،، تاہم اب رئیل اسٹیٹ کا کام کرنے والوں نے نئی حکومت سے کافی امیدیں وابستہ کر لی ہیں کہ کہ وہ اس بارے میں اقدامات کرے گی،، ان کی خواہش ہے کہ حکومت کو ایسی حکمت عملی بنانی چاہیے جس سے کاروبار بھی متاثر نا ہو،، اور بتدریج اس سیکٹر پر ٹیکس بھی لاگو ہو جائے ۔۔۔۔